سکوں مل گیا ہے قرار آ گیا ہے
کسی پر ہمیں اعتبار آ گیا ہے
قفس میں بھی کیسی بہار آ گئی ہے
قفس میں جو ذکرِ بہار آ گیا ہے
ان آنکھوں کو دیکھا ہے مخمور جب سے
ان آنکھوں میں بھی کچھ خمار آ گیا ہے
ملا ہے دمِ صبح شبنم نے غازہ
یہ کیوں رُوئے گُل پر نکھار آ گیا ہے
منور کو دیکھا تو کچھ لوگ سمجھے
سرِ بزم اک بادہ خوار آ گیا ہے
منور لکھنوی
منشی بشیشور پرشاد
No comments:
Post a Comment