Sunday, 5 September 2021

عجب ہیں صورت حالات اب کے

 عجب ہیں صورتِ حالات اب کے

ہوئی برسات میں برسات اب کے

بدن میں پھول بھی چُبھنے لگے ہیں

بہت نازک ہیں احساسات اب کے

ذرا چوکنا چوکنا ہوں میں بھی

ہے دنیا بھی لگائے گھات اب کے

بنا دوں گا تِرے چہرے کا جُھومر

لگا جو چاند میرے ہاتھ اب کے

لگی ہے شرط میرے آنسوؤں کی

سمندر کو ملے گی مات اب کے

سلیم الفاظ بودے لگ رہے ہیں

ہے ایسی شدتِ جذبات اب کے


سردار سلیم

No comments:

Post a Comment