Friday, 6 October 2023

ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے

 ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہے

دل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہے

کب سنبھالے سے سنبھلتا ہے دل پر اضطراب

آہ سوزاں لب پر اب بھی سینہ بریاں اب بھی ہے

سعی کوشش کے لیے میدان ہے اب بھی فراخ

عزم راسخ کی ضرورت ہم کو ہاں ہاں اب بھی ہے

تخم میں روئیدگی ہر نخل میں بالیدگی

موسم سرما و گرما باد و باراں اب بھی ہے

خلق میں موجود ہیں اب بھی وہی لعل و گہر

تشنہ کامیٔ صدف کو ابر نیساں اب بھی ہے

شام بھی ہے صبح بھی ہے اور دن بھی رات بھی

ماہ تاباں اب بھی ہے مہر درخشاں اب بھی ہے

عاشق و معشوق بھی ہیں وصل و ہجر و رشک بھی

مہر الفت تیغ و خنجر تیر پیکاں اب بھی ہے

ہے وہی دیوانگی اب بھی وہی شوریدگی

جیب و دامن ہدیۂ خار بیاباں اب بھی ہے

شوق و ذوق اب بھی ہے باقی مردہ دل ہم ہیں تو ہیں

اپنے دل کو حسرت سیر گلستاں اب بھی ہے

عشق کی صورت جو بدلے تو ہو عاشق بھی کچھ اور

یہ جفا و جور کا ہر وقت خواہاں اب بھی ہے

آ گئی پیری مگر اب تک ہے تو محو خیال

ہم سبق طفلوں کا تو طفل دبستاں اب بھی ہے

گرمئ محفل وہی ہے جمع ہیں احباب بھی

ہستیٔ پروانہ و شمع شبستاں اب بھی ہے

غیرممکن ہے بدل جائے کبھی قانون حق

حکم یزداں اب بھی ہے اجرائے فرماں اب بھی ہے

کیوں مسلمانوں نے بدلا حال اپنی قوم کا

تھا جو قرآں بس وہی موجود قرآں اب بھی ہے

قشقہ بالائے جبیں زنار ہے بالائے دوش

یہ بتا ایمان سے کیا تو مسلماں اب بھی ہے

اتقا و زہد سے دل بستگی باقی نہیں

دعویٰ اسلام جیسا پہلے تھا ہاں اب بھی ہے

کھو دئیے ایام پیری نے تیرے ہوش و حواس

اے بشیر بے نوا کچھ دل میں ارماں اب بھی ہے


بشیر احمد دہلوی

بشیرالدین احمد

No comments:

Post a Comment