Friday, 6 October 2023

یہ حرص و ہوس کی منڈی ہے انمول رتن بک جاتے ہیں

 یہ حرص و ہوس کی منڈی ہے انمول رتن بِک جاتے ہیں

محلوں کے پڑخچے اڑتے ہیں دھنوان کے دھن بک جاتے ہیں

دولت کی طرح توبہ توبہ احبابِ وطن بک جاتے ہیں

بازار عجب بازار ہے یہ رنگین چمن بک جاتے ہیں

رنگین چمن کا ذکر ہی کیا مُردوں کے کفن بک جاتے ہیں

تعویذ میں قرآں بکتا ہے، منتر بھی خریدا جاتا ہے

نیلام وظیفے ہوتے ہیں گوہر بھی خریدا جاتا ہے

مٹی بھی خریدی جاتی ہے پتھر بھی خریدا جاتا ہے

مسجد کا بھی سودا ہوتا ہے مندر بھی خریدا جاتا ہے

مُلاؤں کے سجدہ بکتے ہیں پنڈت کے بھجن بک جاتے ہیں

کیا سوچ رہے ہو اہلِ جگر ہر چیز کا سودا ہوتا ہے

دو دن کا تماشہ ہے یہ مگر ہر چیز کا سودا ہوتا ہے

ڈالو تو ذرا دنیا پہ نظر ہر چیز کا سودا ہوتا ہے

جو چاہو خریدو آؤ ادھر ہر چیز کا سودا ہوتا ہے

بکتی ہیں سہاگ کی راتیں بھی دلہن کے چلن بک جاتے ہیں

توبہ یہ زمانہ کیسا ہے ہر بات پہ نازاں پیسہ ہے

محفوظ رہے ایماں اپنا ماحول زمانہ بدلہ ہے

زر لے کے خودداری بیچی، کیا خوب یہ سودا سستا ہے

شعراء نے ضمیر اپنا بیچا لفظوں کا خزانہ بیچا ہے

چاندی کے چمکتے سکوں پر ارباب سخن بک جاتے ہیں


نازاں شولا پوری

No comments:

Post a Comment