کہاں رہی ہے محبت کی آس شہروں میں
بدل لیے ہیں سبھی نے لباس شہروں میں
سگانِ تشنہ ہر اک رہ گزر پہ بیٹھے ہیں
لہو کی بڑھتی ہی جاتی ہے پیاس شہروں میں
لہو کے آخری قطرے بھی بے جزا ٹھہرے
کہاں سے آئیں گے اب حق شناس شہروں میں
کنارِ شہر دُکھوں کی ردا میں لپٹی ہوئی
سِسک رہی ہے اجالوں کی آس شہروں میں
تاشی ظہیر
No comments:
Post a Comment