اس چمن میں سدا بہار نہیں
رنگ دُنیا کا اعتبار نہیں
بُلبلے کو سکون ہو کیوں کر
خُود سمندر کو جب قرار نہیں
ہاں کا بھی کوئی وقت آئے گا
کب تک آخر یہ بار بار نہیں
خواب پر بے قیاس بیداری
دونوں حالت میں اختیار نہیں
اس کے وعدے کا کیا بھروسہ ہے
جس کو اک آن بھی قرار نہیں
کس قدر صاف دل رہا امجد
اس کی مٹی میں بھی غبار نہیں
امجد حیدرآبادی
سید احمد حسین
No comments:
Post a Comment