خاک آئے کوئی وجد میں دھمّال کے بغیر
قوّال و ہمنوا تو ہیں سُر تال کے بغیر
رامش گری کے شوق نے رُسوا کیا بہت
اک بے سُرے کو صحبتِ خوشحال کے بغیر
اک شخص خود فریبی کے رستے پہ گامزن
جیسے کوئی شجر ہو مگر چھال کے بغیر
بہروپیے نے رُوپ تو بدلے ہزار ہا
خوش ہو سکا نہ صورتِ پامال کے بغیر
شطرنج کے پیادے کا چہرہ تو دیکھیے
دو پل نہیں گزارتا جو چال کے بغیر
تلوار سے ہوا کا بدن چیرتے ہوئے
اگلی صفوں میں دیکھ مجھے ڈھال کے بغیر
ارشاد! وحشتوں کے تسلسل کی راہ میں
صحرا میں کچھ ہیولے تھے اشکال کے بغیر
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment