Tuesday, 10 October 2023

غم حیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے

 غمِ حیات سے کچھ واسطہ تو رکھنا ہے

وفا کا جو ہے طریقہ روا تو رکھنا ہے

نہ جانے کون سی رُت میں ہو خواہشِ منزل

سفر کریں نہ کریں راستہ تو رکھنا ہے

زمانہ جان تو لے ہم ہیں تیرگی کے خلاف

بھلے ہوائیں بُجھا دیں، دِیا تو رکھنا ہے

قدم ہزار مِلا کر چلیں زمانے سے

چلن زمانے سے اپنا جُدا تو رکھنا ہے

ازل سے معرکہ، شاعر ہے حق و باطل میں

نظر میں سانحہ کرب و بَلا تو رکھنا ہے


سید مجتبیٰ داودی

No comments:

Post a Comment