یہ ارض کیا ہے خلا کیا ہے اور سما کیا ہے
تِری ہی ذات ہے ہر سُو، تِرے سوا کیا ہے
جو سوزِ دل سے مبرا ہو وہ دعا کیا ہے
جو روح میں نا اتر جائے وہ صدا کیا ہے
سنبھالا در کو تو دیوار گر پڑی یارو
یہ اتفاق اگر ہے تو سانحہ کیا ہے
فنا ہو جس کا مقدر اسے شمار نہ کر
بس ایک ہی تو تصور ہے دوسرا کیا ہے
نہ جیب ہے نہ گریباں نہ اب گمانِ حیات
ہمارے پاس تِری یاد کے سوا کیا ہے
حصارِ ذات سے اپنی اگر نکل جائے
تو پھر نہ پوچھ کہ انساں کا مرتبہ کیا ہے
سید مجتبیٰ داودی
No comments:
Post a Comment