Thursday, 5 October 2023

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

 نہ حرم میں نہ سکوں ملتا ہے بت خانے میں

چین ملتا ہے تو ساقی تیرے مے خانے میں

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

کالی گھٹا ہے مست فضا ہے

جام اٹھا کر گھوم گھوم گھوم

آج انگور کی بیٹی سے محبت کر لے

شیخ صاحب کی نصیحت سے بغاوت کر لے

اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے سر پر دنیا

یہ تو اچھا ہوا انگور کو بیٹا نہ ہوا

کم سے کم صورت ساقی کا نظارا کر لے

آ کے مے خانے میں جینے کا سہارا کر لے

آنکھ ملتے ہی جوانی کا مزہ آئے گا

تجھ کو انگور کے پانی کا مزہ آئے گا

ہر نظر اپنی بصد شوق گلابی کر دے

اتنی پی لے کے زمانے کو شرابی کر دے

جام جب سامنے آئے تو مکرنا کیسا

بات پینے پہ جب آ جائے تو ڈرنا کیسا

دھوم مچی ہے مے خانے میں 

تو بھی مچا لے دھوم دھوم دھوم

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

اس کے پینے سے طبیعت میں روانی آئے

اس کو بوڑھا بھی پی لے تو جوانی آئے

پینے والے تجھے آ جائے گا پینے کا مزہ

اس کے ہر گھونٹ میں پوشیدہ ہے جینے کا مزہ

بات تو جب ہے کہ تو مے کا پرستار بنے

تو نظر ڈال دے جس پر وہی مے خوار بنے

موسم گل میں تو پینے کا مزہ آتا ہے

پینے والوں کو ہی جینے کا مزہ آتا ہے

جام اٹھا لے منہ سے لگا لے 

منہ سے لگا کر چوم چوم چوم

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم

جو بھی آتا ہے یہاں پی کے مچل جاتا ہے

جب نظر ساقی کی پڑتی ہے سنبھل جاتا ہے

آ ادھر جھوم کے ساقی کالے کے نام اٹھا

اس قدر پی لے کے رگ رگ میں سر در آ جائے

کثرت مے سے تیرے چہرے پر نور آ جائے

اس کے ہر قطرے میں نازاں ہے نہاں دریا دلی

اس کے پینے سے عطا ہوتی ہے اک زندہ دلی

شان سے پی لے شان سے جی لے 

تو بھی نشے میں جھوم جھوم جھوم

جھوم برابر جھوم شرابی جھوم برابر جھوم


نازاں شولا پوری

منی بیگم نے اس کلام کو کیا خوب گایا ہے۔

No comments:

Post a Comment