جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے
سروں پہ ناچتی پھرتی قضا کا دکھ ہے مجھے
زمانے بھر کی نگاہوں میں تُو مسیحا ہے
کسے خبر کہ تیری ہی دعا کا دکھ ہے مجھے
میرے وجود کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیں
یہ اور بات کہ خلقِ خدا کا دکھ ہے مجھے
بھرا نہیں ہے ابھی زخم بے وفائی کا
اک اور ٹوٹتے عہدِ وفا کا دکھ ہے مجھے
خبر نہیں کہ یہ آگ بجھ بھی پائے گی
مسلسل آگ لگاتی گھٹا کا دکھ ہے مجھے
رجب!! وہ لوٹ تو آیا ہے مِیت بچپن کا
جو ایک عمر تک رہا اس خلا کا دکھ ہے مجھے
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment