Tuesday, 15 February 2022

جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے

 جہاں میں فتنے اٹھاتی وبا کا دکھ ہے مجھے

سروں پہ ناچتی پھرتی قضا کا دکھ ہے مجھے

زمانے بھر کی نگاہوں میں تُو مسیحا ہے

کسے خبر کہ تیری ہی دعا کا دکھ ہے مجھے

میرے وجود کے اپنے بھی کچھ تقاضے ہیں

یہ اور بات کہ خلقِ خدا کا دکھ ہے مجھے

بھرا نہیں ہے ابھی زخم بے وفائی کا

اک اور ٹوٹتے عہدِ وفا کا دکھ ہے مجھے

خبر نہیں کہ یہ آگ بجھ بھی پائے گی

مسلسل آگ لگاتی گھٹا کا دکھ ہے مجھے

رجب!! وہ لوٹ تو آیا ہے مِیت بچپن کا

جو ایک عمر تک رہا اس خلا کا دکھ ہے مجھے


رجب چوہدری

No comments:

Post a Comment