اندھیرا جس کو دنیا کہہ رہی ہے
اجالوں کی عدم موجودگی ہے
نظر آتا ہے جو کچھ آئینے میں
اسی کا نام شاید آدمی ہے
نشے جیسا کوئی گزرا تھا کل شب
گلی مدہوش ہو کر مڑ گئی ہے
پھنسے تھے لفٹ میں ہم اتفاقاً
وہیں پر زندگی رک سی گئی ہے
اندھیروں نے کیا تھا چاند اغوا
تعاقب میں ابھی تک روشنی ہے
بدن صحرا میں سرگرداں لہو ہے
ہماری خاک چھانی جارہی ہے
شہروز خاور
No comments:
Post a Comment