حکم تیرا ہے سو تاویل نہیں ہو سکتی
اور گراں ایسا کہ تعمیل نہیں ہو سکتی
تم ہی ہو مسندِ معشوق پہ فائز اب تک
یہ جگہ وہ ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتی
عرصۂ زیست کی تکمیل تو ہو جاتی ہے
خواہشِ زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی
اشک ہے راوئ موثوق حدیثِ غم کا
اس پہ اب جر ح و تعدیل نہیں ہو سکتی
تیری قسمت میں اگر ہوں تو کوئی مہر ہوں میں
دستِ افلاک میں قندیل نہیں ہو سکتی
جب تلک درد کا فیضان نہ ہو سینے پر
مصحفِ شعر کی تنزیل نہیں ہو سکتی
محب الحق وفا
No comments:
Post a Comment