Thursday, 3 June 2021

حکم تیرا ہے سو تاویل نہیں ہو سکتی

 حکم تیرا ہے سو تاویل نہیں ہو سکتی

اور گراں ایسا کہ تعمیل نہیں ہو سکتی

تم ہی ہو مسندِ معشوق پہ فائز اب تک

یہ جگہ وہ ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتی

عرصۂ زیست کی تکمیل تو ہو جاتی ہے

خواہشِ زیست کی تکمیل نہیں ہو سکتی

اشک ہے راوئ موثوق حدیثِ غم کا

اس پہ اب جر ح و تعدیل نہیں ہو سکتی

تیری قسمت میں اگر ہوں تو کوئی مہر ہوں میں

دستِ افلاک میں قندیل نہیں ہو سکتی

جب تلک درد کا فیضان نہ ہو سینے پر

مصحفِ شعر کی تنزیل نہیں ہو سکتی


محب الحق وفا

No comments:

Post a Comment