میرے ہمراہ ستارے کبھی جگنو نکلے
جستجو میں تری ہر رات مہم جو نکلے
تیری روتی ہوئی آنکھیں ہیں مِری آنکھوں میں
ورنہ پتھر میں کہاں جان کہ آنسو نکلے؟
سانس لینے کی جسارت بھی نہ کر پاؤں گا
جسم سے میرے جو پل بھر کے لیے تُو نکلے
اہل دل یونہی تر و تازہ نہیں رکھتے انہیں
زخم بھر جائیں تو ممکن نہیں خُوشبو نکلے
ذکر میں تیرے گوارا نہیں اتنا بھی مجھے
ما سوا تیرے کوئی اور بھی پہلو نکلے
تیری چوکھٹ پہ پہنچنا ہے سلامت مجھ کو
جان پیاسے کی جو نکلے تو لب جُو نکلے
میں وہ نادان کہ ڈھونڈوں کوئی اپنے جیسا
اور احباب تھے عازم کہ ارسطو نکلے
عین الدین عازم
No comments:
Post a Comment