تری تشہیر کرتے ہیں گریباں چاک رکھتے ہیں
یہ دیوانے محبت کا سلیقہ خاک رکھتے ہیں
کچھ اس انداز سے ہم نے گزاری ہے زمانے میں
نگاہوں میں تبسم ہے،۔ دلِ نمناک رکھتے ہیں
جنوں میں سرنِگوں ہو کر جھکاتے ہیں زمانے کو
رہِ الفت کے افتادہ دلوں پر دھاک رکھتے ہیں
جنہوں نے تجھ کو سمجھا ہے، نہیں سمجھے کہ سمجھا ہے
جو کچھ ادراک رکھتے ہیں، کہاں ادراک رکھتے ہیں
جا ہم خاک کے باسی نہیں آئینہ رو تم سے
مگر گردِ کدورت سے دلوں کا پاک رکھتے ہیں
اسلم شاہد
No comments:
Post a Comment