آج ایسا کمال کر جائیں
لوٹ کر پھر سے اپنے گھر جائیں
اس قدر خامشی کی عادت ہے
سانس کے شور سے نہ مر جائیں
آسماں راستہ نہیں دیتا
پھر وہی دُکھ لیے کدھر جائیں
کون آئے گا ڈھونڈنے ہم کو
راستے میں کہیں بکھر جائیں
کیوں سمندر سے خوف آتا ہے
مجھ سے گہرا نہیں، اُتر جائیں
عمران ملوک اعوان
No comments:
Post a Comment