سلاخ بن کے میرے دل کے آر پار ہوا
وہ اک ستم کہ تِرا روز کا شعار ہوا
میں خارزار حقیقت سے جب کبھی گزرا
لباس خوب ہمیشہ ہی تار تار ہوا
وہ کیا خوشی تھی کہ اشکوں میں ڈھل گئی آخر
قرار پایا تو کچھ اور بے قرار ہوا
دکھایا معجزہ یہ کس کی سر فروشی نے
شفق سلگنے لگی، دشت لالہ زار ہو
بڑی خطا ہے حقیقت کا ماننا حیدر
یہ جرم ہم سے ہوا اور بار بار ہوا
حیدر گیلانی
No comments:
Post a Comment