تم سے ملنے کی آس رکھتے ہیں
بس یہ پُونجی ہی پاس رکھتے ہیں
من کے مَیلے جو لوگ ہوتے ہیں
تن پہ اُجلا لباس رکھتے ہیں
جن کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ ہو
دل وہ اکثر اُداس رکھتے ہیں
کیا دھرا ہے چمن میں، پھُولوں میں
کب وہ کاکُل سی باس رکھتے ہیں
شیخ صاحب کے من میں جھانکو تو
رِند کی سی اساس رکھتے ہیں
چند بُوندوں سے کیا ہو سیرابی
ہم تو صدیوں کی پیاس رکھتے ہیں
اسلم شاہد
No comments:
Post a Comment