Saturday, 24 April 2021

اک دیا آس کا آنگن میں بجھایا میں نے

 اک دِیا آس کا آنگن میں بُجھایا میں نے

اور پھر گھر میں ہواؤں کو بُلایا میں نے

سانس لیتا ہوں تو اندر سے دُھواں آتا ہے

اس قدر سوچ کے جنگل کو جلایا میں نے

کچھ فرشتوں نے مجھے موت کی دھمکی دے دی

ایک سچ کو جو سرِ عام بتایا میں نے

کیسے آئی ہے فضاؤں سے مہک مٹی کی

صرف قطرہ ہی جو پتھر پہ گرایا میں نے

دن جو نکلا ہے تو آنکھیں نہیں کھُلتیں میری

رات بھر جاگ کے سپنوں کو سُلایا میں نے

میرے چہرے پہ کئی نقش بنا ڈالے ہیں

غم کے دریا نے جو آنکھوں سے بہایا میں نے


عمران ملوک اعوان

No comments:

Post a Comment