Saturday, 24 April 2021

بنائی ہے تری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

 بنائی ہے تِری تصویر میں نے ڈرتے ہوئے

لرز رہا تھا مِرا ہاتھ رنگ بھرتے ہوئے

میں انہماک میں یہ کس مقام تک پہنچا

تجھے ہی بھُول گیا تجھ کو یاد کرتے ہوئے

نظامِ کُن کے سبب انتشار ہے مربوط

یہ کائنات سمٹتی بھی ہے بکھرتے ہوئے

کہیں کہیں تو زمیں آسماں سے اونچی ہے

یہ راز مجھ پہ کھُلا سیڑھیاں اترتے ہوئے

ہمیں یہ وقت ڈراتا کچھ اس طرح بھی ہے

ٹھہر نہ جائے کہیں حادثہ گُزرتے ہوئے

کچھ اعتبار نہیں اگلی نسل پر ان کو

وصیتیں نہیں کرتے یہ لوگ مرتے ہوئے

ہر ایک ضرب تو ہوتی نہیں عیاں عاصم

ہزار نقش ہوئے مُندمل اُبھرتے ہوئے


صباحت عاصم واسطی

No comments:

Post a Comment