کوہِ غم ٹوٹ پڑے دید و دل پر کتنے
قافلے درد کے آئے ہیں برابر کتنے
خشک کانٹوں سے ٹپکتا رہا کلیوں کا لہو
قتل گاہوں سے ملے پھول سے پیکر کتنے
ہم ہیں منصور، لبِ دار نے چوما ہم کو
ہم ہیں سقراط ملے زہر کے ساغر کتنے
ہم نے دیکھے ہیں بُرے وقت کے منظر کتنے
پھول بن جاتے ہیں حالات کے پتھر کتنے
حادثہ شرط محبت ہے تو تسلیم مگر
حادثے ہوں گے مرے قد کے برابر کتنے
صرف الفاظ کے پیکر نہیں اشعارِ نشاط
فکر ومعنی کے سموئے ہیں سمندر کتنے
نشاط عثمانی
No comments:
Post a Comment