Wednesday, 6 October 2021

ویرانی میں سورج نے ہمسفری کی

 ویرانی میں سورج نے ہم سفری کی

رستے پر اک سائے نے گلکاری کی

اپنے جسم کو آخری مرتبہ دکھتے ہیں

ہم، جو باتیں سنتے ہیں کلہاڑی کی

روز گلے سے لگ کر ہم سے ملتی ہے

خوشبو آتی ہے ہم سے کستوری کی

آندھی نے تو صبر سے کام لیا لیکن

چڑیا نے دانہ چگنے میں کمزوری کی

ماں نے اپنا دودھ پلایا بچوں کو

باپ نے بچوں کی خاطر مزدوری کی

جس نے خود کو تراشتے عمر گزاری ہے

خاص ہوا تو لوگوں نے ناقدری کی

تاجر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھے مگر

بنجارن نے آنکھوں سے بنجاری کی

بستر کو بھی نیند نہیں آتی احسن

دنیا خالی لگتی ہے الماری کی


عزیز احسن

No comments:

Post a Comment