دل اس کی سمت دیکھنے سے پہلے ڈر گیا
اک خواب پورا ہونے سے پہلے بکھر گیا
کیوں اس جگہ پہ ریت نے ڈیرے لگائے ہیں
دریا جو اک ردھم میں رواں تھا کدھر گیا
اتنی سی داستان مِرے عشق نے لکھی
سیڑھی پہ جیسے کوئی چڑھا اور اتر گیا
جھکنا نہیں پڑا تھا کسی طور بھی مجھے
محبوب میرا دیکھ کے مجھ کو سدھر گیا
کچھ ایسا ہو کہ مجھ کو دوبارہ سے غم ملیں
میرا وجود پیار کی لذت سے بھر گیا
عزیز احسن
No comments:
Post a Comment