جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے
پہنانے کو لائے ہیں مجھے ہار پرندے
انسان نے گر زہر کو روکا نہ ہوا سے
ہو جائیں گے پھر دیکھنا بیمار پرندے
گلشن کے نگہبان کو دیتے ہیں سلامی
یہ بادِ صبا، پھول، یہ اشجار، پرندے
کیا اور بھی کافر کو ابھی ملنی ہے مہلت
پتھر کو بناتے نہیں ہتھیار پرندے
کیا ان کو شکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے
کیوں لوٹ کے آ جاتے ہیں ہر بار پرندے
ہُد ہُد ہے، ابابیل ہے، بُلبُل ہے، بتاؤ
کس کس کو یہاں آج ہیں درکار پرندے
تم سے یہ کہا کس نے کہ ویران جگہ ہے
گنجانئ دنیا کے ہیں آثار پرندے
مر جائے گا یہ پیڑ کہ پنچھی نہ اڑاؤ
اس پیڑ کی ہیں عزت و دستار پرندے
اس پیڑ کی رونق کا سبب بنتے ہیں احسن
اس پیڑ پہ بیٹھے ہوئے دو چار پرندے
عزیز احسن
No comments:
Post a Comment