Friday, 8 October 2021

جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے

 جب دیکھا مجھے ہو گئے سرشار پرندے

پہنانے کو لائے ہیں مجھے ہار پرندے

انسان نے گر زہر کو روکا نہ ہوا سے

ہو جائیں گے پھر دیکھنا بیمار پرندے

گلشن کے نگہبان کو دیتے ہیں سلامی

یہ بادِ صبا، پھول، یہ اشجار، پرندے

کیا اور بھی کافر کو ابھی ملنی ہے مہلت

پتھر کو بناتے نہیں ہتھیار پرندے

کیا ان کو شکاری کا کوئی خطرہ نہیں ہے

کیوں لوٹ کے آ جاتے ہیں ہر بار پرندے

ہُد ہُد ہے، ابابیل ہے، بُلبُل ہے، بتاؤ

کس کس کو یہاں آج ہیں درکار پرندے

تم سے یہ کہا کس نے کہ ویران جگہ ہے

گنجانئ دنیا کے ہیں آثار پرندے

مر جائے گا یہ پیڑ کہ پنچھی نہ اڑاؤ

اس پیڑ کی ہیں عزت و دستار پرندے

اس پیڑ کی رونق کا سبب بنتے ہیں احسن

اس پیڑ پہ بیٹھے ہوئے دو چار پرندے


عزیز احسن

No comments:

Post a Comment