تمہاری آنکھ کا نم جاں نکال دیتا ہے
گہے ڈبوتا ہے، گاہے اُچھال دیتا ہے
تمہارے لمس کی لذت غزل میں در آئی
ہمیں تو شعر بھی لُطفِ وصال دیتا ہے
کسی کا پہلوئے خمدار آزمائش ہے
ہمارے قلب کو مُشکل میں ڈال دیتا ہے
وہ دل نشین ہماری طلب سے واقف ہے
سو خلوتوں میں ہی اذنِ سوال دیتا ہے
اب اس کی دیدہ دلیری کو کیا کہا جائے
وفا کے ذکر پہ اپنی مثال دیتا ہے
مِرے مزاج کے موسم اسی کے ہاتھ میں ہیں
کبھی خوشی، کبھی رنج و ملال دیتا ہے
یہ معجزہ ہے کسی کے حسیں تخیل کا
جو میرے شعر کو اوجِ کمال دیتا ہے
قمر آسی
No comments:
Post a Comment