کوئی عاشق کوئی پاگل کوئی فنکار ہو جائے
تمہیں دیکھیں اگر ہم دیکھتے ہی پیار ہو جائے
تِری زلفوں نے توڑا ہے گھٹاؤں کا بھرم جاناں
تِری شوخی کبھی قاتل، کبھی تلوار ہو جائے
لبوں سے گر چُرا لیں یہ تِری مخمور لالی کو
گلابِ گلشنِ مہر و وفا گلزار ہو جائے
چلے آؤ سجا کر تم رُخِ روشن کو آنچل میں
مِری چھت پر مجھے بھی چاند کا دِیدار ہو جائے
مِری رگ رگ میں شامل ہے لہو بن کر تِری اُلفت
خدا را تُو کبھی دلبر کبھی غمخوار ہو جائے
نگاہِ شوق ڈالی جب صراحی کی طرف اس نے
سبھی مےکش پکار اٹھے کہ پھر اک بار ہو جائے
خیال و خواب کی باتیں لکھو گے کب تلک یوں ہی
چلو ذاکر! حقیقت کا بھی کچھ اظہار ہو جائے
ذاکر خان
No comments:
Post a Comment