Sunday, 1 August 2021

زندہ لاشیں پہنتی ہیں رنگیں کفن

 رنگیں کفن


ٹوٹے آئینے کی کرچیاں

جب خلش بن کے پیوست ہوں روح میں

خواب کے لالہ زاروں میں صرصر چلے

بجھ رہے ہوں امیدوں کے سارے دِیے

روح کے ریگزاروں کی تپتی ہوئی ریت میں

دفن ہو جاتی ہیں حسرتیں

اک سمندر سا آنکھوں میں بستا تو ہے

ابر بن کر برستا نہیں

بھاپ کی شکل میں، گرم قطروں کی صورت ٹپکتا ہے اور

روح میں آبلے سے ابھر آتے ہیں

درد کی آنچ میں دھیمے دھیمے سُلگتی ہوئی

زیست کے ہاتھوں لاچار کٹھ پُتلیاں

اپنے پیروں میں چھالوں کی پازیب پہنے ہوئے

اپنی ہستی کے اُجڑے بیابان میں

آرزوؤں کے خوں کی رِدا جسم پر اوڑھ کر

سانس کے ساز پر رقص کرنے کو مجبور ہیں

زندہ لاشیں پہنتی ہیں رنگیں کفن


تبسم اعظمی

No comments:

Post a Comment