رنگیں کفن
ٹوٹے آئینے کی کرچیاں
جب خلش بن کے پیوست ہوں روح میں
خواب کے لالہ زاروں میں صرصر چلے
بجھ رہے ہوں امیدوں کے سارے دِیے
روح کے ریگزاروں کی تپتی ہوئی ریت میں
دفن ہو جاتی ہیں حسرتیں
اک سمندر سا آنکھوں میں بستا تو ہے
ابر بن کر برستا نہیں
بھاپ کی شکل میں، گرم قطروں کی صورت ٹپکتا ہے اور
روح میں آبلے سے ابھر آتے ہیں
درد کی آنچ میں دھیمے دھیمے سُلگتی ہوئی
زیست کے ہاتھوں لاچار کٹھ پُتلیاں
اپنے پیروں میں چھالوں کی پازیب پہنے ہوئے
اپنی ہستی کے اُجڑے بیابان میں
آرزوؤں کے خوں کی رِدا جسم پر اوڑھ کر
سانس کے ساز پر رقص کرنے کو مجبور ہیں
زندہ لاشیں پہنتی ہیں رنگیں کفن
تبسم اعظمی
No comments:
Post a Comment