Sunday, 1 August 2021

اٹھ رہا ہے دم بہ دم ڈر کا دھواں

 اٹھ رہا ہے دم بہ دم ڈر کا دھواں

کم نہیں ہو پا رہا گھر کا دھواں

کشتیوں کی آگ دفنانے کے بعد

دیکھ لے ساحل سمندر کا دھواں

دونوں جانب ایک جیسی آگ ہے

دونوں جانب ہے برابر کا دھواں

سامنے تو سِین ہے بہتر، مگر

کیا پتہ پیچھے ہو منظر کا دھواں

کھڑکیاں ساری کی ساری کھول کر

دیکھتا رہتا ہوں باہر کا دھواں

جنگ کے آثار ہیں باقی ابھی

آ رہا ہے پاس لشکر کا دھواں


وصاف باسط

No comments:

Post a Comment