Sunday, 13 June 2021

پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے

 پیٹ کی آگ میں برباد جوانی کر کے

پنچھی لوٹے ہیں ابھی نقل مکانی کر کے

خانۂ دل میں گھڑی بھر کو ٹھہرنا ہے انہیں

پھر گزر جائیں گے ہر بات پرانی کر کے

عشق اظہار کا طالب ہے نہ مطلوب نظر

فائدہ کیا ہے میاں شعلہ بیانی کر کے

اب وہاں خاک اڑا کرتی ہے ارمانوں کی

ہم چلے آئے تھے منزل پہ نشانی کر کے

پار لگ جائے گا سانسوں کا سفینہ اک روز

دھڑکنوں میں تِری یادوں سے روانی کر کے

چند لمحوں کا مِرا اس کا سفر تھا ایسا

رات ہو جیسے کہیں شام سہانی کر کے

اس کی نظروں میں حقیقت ہے فسانہ ذاکر

چھوڑ جائے گا مجھے اب وہ کہانی کر کے


ذاکر خان

No comments:

Post a Comment