Sunday, 13 June 2021

خزاں کا خوف بھی ہے موسم بہار بھی ہے

 خزاں کا خوف بھی ہے موسم بہار بھی ہے

کبھی تمہارا کبھی اپنا انتظار بھی ہے

سمٹتی جاتی ہوں بڑھتی ہیں دوریاں جب بھی

عجیب شخص ہے نفرت بھی اس سے پیار بھی ہے

ہوا ہے زخمی مِرا اعتماد جس دن سے

اداس ہی نہیں دل میرا بے قرار بھی ہے

الگ ہے سب سے طبیعت ہی اس کی ایسی ہے

وہ بے وفا ہے مگر اس پہ اعتبار بھی ہے

بہاریں جاتی ہیں جانے دو، تم تو رک جاؤ

بہت دنوں سے طبیعت میں انتشار بھی ہے

کھڑی ہوں آج بھی میں سنگ میل کی صورت

کرن کسی کا زمانہ سے انتظار بھی ہے


کویتا کرن

No comments:

Post a Comment