آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے
ان درختوں پہ زمانہ ہوا پھل آئے ہوئے
کوئی چہرہ ہے جو لگتا نہ ہو مرجھایا ہوا
کوئی پیشانی ہے جس پر نہ ہوں بل آئے ہوئے
اک نظر دیکھ لے شاید تجھے یاد آ جائیں
ہم وہی ہیں تِری محفل سے نکل آئے ہوئے
جیسے ہر چیز نگاہوں میں ٹھہرنا چاہے
دیکھ لینا کبھی موسم پہ غزل آئے ہوئے
کیا گلابوں کی وہ البیلی رُتیں رُوٹھ گئیں
ان دنوں حد نظر تک ہیں کنول آئے ہوئے
لفظ مفہوم سے بے گانہ ہیں مدت گزری
اپنے حصے میں غزل جیسی غزل آئے ہوئے
ہائے وہ لوگ جو ہر وقت نظر آتے تھے
خاک اڑائے ہوئے چہرے پہ بھی مل آئے ہوئے
شاہد لطیف
No comments:
Post a Comment