Sunday, 13 June 2021

آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے

 آج بھی جس کی ہے امید وہ کل آئے ہوئے

ان درختوں پہ زمانہ ہوا پھل آئے ہوئے

کوئی چہرہ ہے جو لگتا نہ ہو مرجھایا ہوا

کوئی پیشانی ہے جس پر نہ ہوں بل آئے ہوئے

اک نظر دیکھ لے شاید تجھے یاد آ جائیں

ہم وہی ہیں تِری محفل سے نکل آئے ہوئے

جیسے ہر چیز نگاہوں میں ٹھہرنا چاہے

دیکھ لینا کبھی موسم پہ غزل آئے ہوئے

کیا گلابوں کی وہ البیلی رُتیں رُوٹھ گئیں

ان دنوں حد نظر تک ہیں کنول آئے ہوئے

لفظ مفہوم سے بے گانہ ہیں مدت گزری

اپنے حصے میں غزل جیسی غزل آئے ہوئے

ہائے وہ لوگ جو ہر وقت نظر آتے تھے

خاک اڑائے ہوئے چہرے پہ بھی مل آئے ہوئے


شاہد لطیف

No comments:

Post a Comment