Sunday, 13 June 2021

عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی

 عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی

تجھ سے ہر بار محبت کا بھرم رکھوں گی

تم نبھاؤ گے محبت کو محبت سے اگر

میں بھی سرکار محبت کا بھرم رکھوں گی

ساتھ گرداب کے میں رقص کروں گی اور پھر

بیچ منجھدار محبت کا بھرم رکھوں گی

تلخ جملوں سے مِرے دل کا محل ٹوٹ گیا

کیسے بے کار محبت کا بھرم رکھوں گی

لڑ پڑوں گی میں تِرے واسطے اس دنیا سے

لے کے تلوار محبت کا بھرم رکھوں گی


سمیرا یوسف

No comments:

Post a Comment