عمر بھر یار محبت کا بھرم رکھوں گی
تجھ سے ہر بار محبت کا بھرم رکھوں گی
تم نبھاؤ گے محبت کو محبت سے اگر
میں بھی سرکار محبت کا بھرم رکھوں گی
ساتھ گرداب کے میں رقص کروں گی اور پھر
بیچ منجھدار محبت کا بھرم رکھوں گی
تلخ جملوں سے مِرے دل کا محل ٹوٹ گیا
کیسے بے کار محبت کا بھرم رکھوں گی
لڑ پڑوں گی میں تِرے واسطے اس دنیا سے
لے کے تلوار محبت کا بھرم رکھوں گی
سمیرا یوسف
No comments:
Post a Comment