Sunday, 13 June 2021

ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ

 ہر شب خیال غیر کے مارے الگ تھلگ

آتے ہیں خواب میں وہ ہمارے الگ تھلگ

گر غیر ساتھ سایہ کے صورت نہ تھا تو کیوں

مثل صبا چمن سے سدھارے الگ تھلگ

بلبل وہ ہوں کہ فصل کے پہلے ہی باغباں

لیتا ہے باغ جس کا اجارے الگ تھلگ

دام بلا میں پھنستے ہیں آپ آ کے سیکڑوں

وہ بت ہزار بال سنوارے الگ تھلگ

اے گل تجھے کسی کی نہ مطلق خبر ہوئی

غنچے چٹک چٹک کے پکارے الگ تھلگ

خلوت میں بھی جو آئے ہیں جلوت کا ذکر کیا

بیٹھے ہوئے ہیں شرم کے مارے الگ تھلگ

پیش نظر شبیہ خیالی ہے اپنی شاد

نقشے جمے ہوئے ہیں ہمارے الگ تھلگ


شاد لکھنوی

شاد پیر و میر

No comments:

Post a Comment