حاصل دل مضطر کی تمنا تمام رات
زرغون کے رنگوں سی نگینہ تمام رات
خوشبو نے اپنا رخ ہماری طرف کیا
یادوں کی انجمن مہکی تمام رات
کہنے کا حوصلہ نہ تھا لیکن وہ انکہی
گونجتی رہی میرے دل میں تمام رات
چپ چاپ سی خاموش سی الجھی سی داستاں
ذلفوں کے بل میں جھوم کے سلجھی تمام رات
کچھ ایسی تجلی تھی کے بے ساختہ ہم نے
تعظیم میں نظریں نہ اٹھائیں تمام رات
چاندنی اتری تو منور ہوا رستہ
ورنہ تو سیاہی تھی مقدر تمام رات
چاہت کے آسماں پہ ہوئی نور کی بارش
تھی ہوشربا جانِ ادا تمام رات
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment