Sunday, 13 June 2021

حاصل دل مضطر کی تمنا تمام رات

 حاصل دل مضطر کی تمنا تمام رات

زرغون کے رنگوں سی نگینہ تمام رات

خوشبو نے اپنا رخ ہماری طرف کیا

یادوں کی انجمن مہکی تمام رات

کہنے کا حوصلہ نہ تھا لیکن وہ انکہی

گونجتی رہی میرے دل میں تمام رات

چپ چاپ سی خاموش سی الجھی سی داستاں

ذلفوں کے بل میں جھوم کے سلجھی تمام رات

کچھ ایسی تجلی تھی کے بے ساختہ ہم نے

تعظیم میں نظریں نہ اٹھائیں تمام رات

چاندنی اتری تو منور ہوا رستہ

ورنہ تو سیاہی تھی مقدر تمام رات

چاہت کے آسماں پہ ہوئی نور کی بارش

تھی ہوشربا جانِ ادا تمام رات


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment