وقت تیزی سے گزرتا ہے گزر جانے دے
ہاں مگر یاد ہی یادوں میں ٹھہر جانے دے
تیرے غم میں تو بکھر جانے سے بہتر یہ ہے
مجھ کو تقدیر کے ہاتھوں ہی بکھر جانے دے
میرے بارے میں تو سوچا نہ کبھی بھی تم نے
اب جدھر سے بھی بٹک جاؤں اُدھر جانے دے
میں نے کیا کیا نہیں کھویا ہے تیری چاہت میں
من میں آتا ہے تجھے بولوں مگر جانے دے
تم نئے دن کے اجالے کی حسیں رونق ہو
میں اندھیرا ہوں سراسر مجھے مر جانے دے
میں تجھے بھول نہ پایا ہوں کبھی بھی لیکن
میں تجھے بھولوں گا دل سے تو اُتر جانے دے
تھک گیا ہوں میں عقیل اس کے بنا جی کر بھی
آج مجھ کو میرے وعدے سے مُکر جانے دے
عقیل فاروق
No comments:
Post a Comment