Sunday, 13 June 2021

وقت تیزی سے گزرتا ہے گزر جانے دے

 وقت تیزی سے گزرتا ہے گزر جانے دے

ہاں مگر یاد ہی یادوں میں ٹھہر جانے دے

تیرے غم میں تو بکھر جانے سے بہتر یہ ہے 

مجھ کو تقدیر کے ہاتھوں ہی بکھر جانے دے

میرے بارے میں تو سوچا نہ کبھی بھی تم نے

اب جدھر سے بھی بٹک جاؤں اُدھر جانے دے

میں نے کیا کیا نہیں کھویا ہے تیری چاہت میں 

من میں آتا ہے تجھے بولوں مگر جانے دے

تم نئے دن کے اجالے کی حسیں رونق ہو

میں اندھیرا ہوں سراسر مجھے مر جانے دے

میں تجھے بھول نہ پایا ہوں کبھی بھی لیکن 

میں تجھے بھولوں گا دل سے تو اُتر جانے دے

تھک گیا ہوں میں عقیل اس کے بنا جی کر بھی 

آج مجھ کو میرے وعدے سے مُکر جانے دے

 

عقیل فاروق

No comments:

Post a Comment