Sunday, 20 February 2022

پی گیا میں آنسوؤں کو دل پہ پتھر رکھ لیا

 پی گیا میں آنسوؤں کو، دل پہ پتھر رکھ لیا

اس کے جانے کی خبر کو گھر کے اندر رکھ لیا

وار میری پیٹھ پہ کرتا رہا بھائی مگر

میں ہوا جب رو برو تو اس نے خنجر رکھ لیا

خامشی گہرائی وسعت اس قدر اچھی لگی

کہ دل بے تاب میں میں نے سمندر رکھ لیا

شہر کی سرحد سے باہر وہ کبھی نکلا نہیں

لیکن اپنا نام بھی اس نے سکندر رکھ لیا

پھر گئی جان غزل اپنی تسلی کے لیے

میں نے لفظوں میں غزل کا حسن پیکر رکھ لیا

اس کو پریوں کی کہانی ریت کے گھر کیا پتا

جس نے بچپن ہی میں گھر کا بوجھ سر پر رکھ لیا


عتیق انظر

No comments:

Post a Comment