ہیں زخم بہت اور بھی دل پر مِرے آگے
کوئی نہ کہے اس کو ستمگر مرے آگے
آفات زمانے کے تعاقب میں مرے ہیں
اور مے ہے نہ مینا ہے نہ ساغر مرے آگے
کیوں بگڑوں فرشتے کے لکھے پر کہ یہی کھیل
ہوتا رہا دنیا میں بھی اکثر مرے آگے
تُو ساتھ چمن میں ہو تو پھر رشک کے مارے
پھرتے ہیں کئی سرو و صنوبر مرے آگے
صیّاد نے پہلے تو رہائی کی خبر دی
پھر ڈال دئیےاس نے میرے پر مرے آگے
گو تیرہ مقدّر ہوں مگر کیسی شکایت
ہیں کانچ کے ٹکڑے ماہ و اختر مرے آگے
گمراہِ زمانہ ہوں مگر راہِ وفا میں
پوچھے نہ خضر کو بھی سکندر مرے آگے
وہ صاحبِ دل ہوں کہ مری جان کا دشمن
تعظیم سے رکھ دیتا ہے خنجر مرے آگے
وہ مستِ ازل ہوں کہ میرا کاتبِ تقدیر
لکھتا ہے مری لوحِ مقدّر مرے آگے
وہ حرفِ صداقت ہوں کہ ہر عہدِ ستم میں
ہے ساغرِسم ، قندِ مکرّر مرے آگے
اے داورِ محشر نہ مِری فردِ عمل دیکھ
اے ہاتفِ غیبی نہ سخن کر مرے آگے
اک ذرۂ روزن ہے مِرے واسطے خورشید
اک ریزۂ مینا ہے سمندر مرے آگے
میں نے بھی کیا قصد سفر کا کہ غزل میں
غالب سا طرحدار ہے رہبر مرے آگے
کس اسم کی برکت ہے کہ ایوانِ سخن میں
کھلتا ہی چلا جاتا ہے ہر در مرے آگے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment