Sunday, 20 February 2022

فرعون زندہ ہیں ابولہول کی دنیا میں

 فرعون زندہ ہیں


ابولہول کی دنیا میں

فریادیں جو کرتے ہیں

اہراموں کے اندر سے

چیخوں سے یہ لکھتے ہیں

دیواروں کے اوپر بھی

رنگوں میں یہ چھپتے ہیں

تابوتوں کے کونے میں

کا نامی اک کوا ہے

زندہ لاش کے سینے میں

پتھر سا دل رکھا ہے

سناٹا سا رہتا ہے

ابولہول کی دنیا میں

آج بھی ایسا ہوتا ہے

فریادیں جو کرتا ہے

فرعونوں کی آوازیں

اہراموں کے اندر سے

دہشت کی ہر آہٹ پر

چیخوں سے یہ لکھتی ہیں

ان کو بھی دفنا دیں گے

دیواروں کے اوپر سے

پتھر پھینکے جاتے ہیں

شام پہ سرخی چھاتی ہے

بےکس، بے بس، بیچارے

رنگوں میں چھپ جاتے ہیں

تابوتوں کے کونوں میں

ٹکڑے پھینکے جاتے ہیں

کا نامی اک کوا بھی

زندہ لاشیں کھاتا ہے

دھک دھک کرتی ہیں آہیں

سناٹا سا چھاتا ہے

ابولہول کی دنیا میں

اہراموں کو موت نہیں


تمثیل حفصہ

No comments:

Post a Comment