کتنے برس سے دیکھ رہا ہوں خواب کوئی بیداری میں
نیند کے برتن ٹوٹ گئے ہیں آنکھوں کی الماری میں
بوسے لیتی پیشانی تھی،۔ ویرانی کا رزق بنی
زنگ لگا آوازوں کو اور زہر ملا ترکاری میں
ایک بدن کی خاموشی نے دل میں شور کی گرد بھری
تاریکی کی آیت پڑھ کر وصل کیا بیزاری میں
کون کہاں کب کیسے بچھڑا کس کو کیا بتلاتے ہم
ہم نے اپنی عمر بِتا دی دل کی تابعداری میں
گریے کی تہذیب میں ہم نے سانسوں کا تاوان بھرا
اور پھر خاک ہوئے ہم خود سےملنے کی تیاری میں
درگاہوں کی مٹی پھانکی سینہ ریگستان کیا
خالی پن کو حفظ کیا ہم نے تیری دلداری میں
بھائی! ہم لایعنی سطریں،۔ کون ہمارا قاری ہو
ہم لمحے بیکار گھڑی کے بسر ہوئے لاچاری میں
حماد نیازی
No comments:
Post a Comment