Sunday, 20 February 2022

بجھ گئے دیپ مگر وحشی ہوا باقی ہے

 بجھ گئے دیپ مگر وحشی ہوا باقی ہے

اس کا مطلب ہے کہ جاہل کی انا باقی ہے

کوئی بینائی کا نقصان نہیں کر سکتا

جب تلک آپ کی آنکھوں میں حیا باقی ہے

پہلے موجود تھی تصویر تمہاری لیکن

اب تو کُٹیا میں فقط نامِ خدا باقی ہے

مجھ کو گمشدگئ سامان کا افسوس نہیں

میں تو خوش ہوں مِرے ہونٹوں پہ دعا باقی ہے

میری آواز پہ پہنچے مِرے اپنے، یعنی

اس گئے گزرے زمانے میں وفا باقی ہے

کئی تعویز پیے گھول کے پانی میں مگر

دل محلے میں وہ آسیب نما باقی ہے

یوں مِرے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے دنیا

جیسے مجرم ہوں میں اور میری سزا باقی ہے


سبحان خالد

No comments:

Post a Comment