بجھ گئے دیپ مگر وحشی ہوا باقی ہے
اس کا مطلب ہے کہ جاہل کی انا باقی ہے
کوئی بینائی کا نقصان نہیں کر سکتا
جب تلک آپ کی آنکھوں میں حیا باقی ہے
پہلے موجود تھی تصویر تمہاری لیکن
اب تو کُٹیا میں فقط نامِ خدا باقی ہے
مجھ کو گمشدگئ سامان کا افسوس نہیں
میں تو خوش ہوں مِرے ہونٹوں پہ دعا باقی ہے
میری آواز پہ پہنچے مِرے اپنے، یعنی
اس گئے گزرے زمانے میں وفا باقی ہے
کئی تعویز پیے گھول کے پانی میں مگر
دل محلے میں وہ آسیب نما باقی ہے
یوں مِرے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے دنیا
جیسے مجرم ہوں میں اور میری سزا باقی ہے
سبحان خالد
No comments:
Post a Comment