Sunday, 20 February 2022

لکھو کہ دل کی بھڑاس نکلے

 قلم قبیلے کے ہاتھ شل ہیں

سخن طرازوں کو چپ لگی ہے

کہ مال و زر کو سدا غنیمت سمجھنے والی سپاہِ دہشت

دیارِ خوشبو کو سخت نرغے میں لے چکی ہے

سپاہِ دہشت کے مورچے ہیں سفید گنبد

کہ جن کے ہر اک بلند گُو سے

فضا میں مہلک خدنگ پھینکے گئے ہیں

جن پر ادق عبارات مندرج ہیں

غضب تو یہ ہے

کہ سادہ لوحوں کو مرگ ناموں پہ

آسمانی ہدایتوں کے گمان ٹھہرے

تراب مقتل میں زندگی کا ہنر تمہی کو عطا ہوا ہے

لکھو کہ دل کی بھڑاس نکلے

لکھو کہ سہمے ہوؤں کا خوف و ہراس نکلے


عطا تراب

No comments:

Post a Comment