تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا
یہ آگ ایسی جلی کہ کبھی دھواں نہ ہوا
چراغ شام یہ میرے لہو سے روشن ہے
کوئی ستارہ مِری شب پہ مہرباں نہ ہوا
کوئی بھی کام مکمل نہ ہو سکا اب تک
ایک آدھ عشق ہوا وہ بھی بے کراں نہ ہوا
بہت دباؤ تھا اس پیڑ پر ہواؤں کا
مگر یہ خم نہ ہوا، رزقِ دشمناں نہ ہوا
خزاں کے دور تو آئے گئے بہت لیکن
اجاڑ اتنا کوئی موسمِ خزاں نہ ہوا
لگا ہے جملوں کا انبار مدعا غائب
کہ لفظ پہلے کبھی اتنا رائیگاں نہ ہوا
اسے بہشت میں منظر دکھاتا دوزخ کا
مگر یہ دیکھنے والا کوئی جواں نہ ہوا
عجیب حبس کا عالم ہے آج چاروں طرف
ستم پہ لب نہ ہلے، ظلم پر فغاں نہ ہوا
ذراسے درد سے کاغذ سُلگ اُٹھا انظر
وہ غم عظیم ہے جو آج تک بیاں نہ ہوا
عتیق انظر
No comments:
Post a Comment