Saturday, 7 August 2021

تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا

 تمہارا غم رہا دل میں کبھی عیاں نہ ہوا

یہ آگ ایسی جلی کہ کبھی دھواں نہ ہوا

چراغ شام یہ میرے لہو سے روشن ہے

کوئی ستارہ مِری شب پہ مہرباں نہ ہوا

کوئی بھی کام مکمل نہ ہو سکا اب تک

ایک آدھ عشق ہوا وہ بھی بے کراں نہ ہوا

بہت دباؤ تھا اس پیڑ پر ہواؤں کا

مگر یہ خم نہ ہوا، رزقِ دشمناں نہ ہوا

خزاں کے دور تو آئے گئے بہت لیکن

اجاڑ اتنا کوئی موسمِ خزاں نہ ہوا

لگا ہے جملوں کا انبار مدعا غائب

کہ لفظ پہلے کبھی اتنا رائیگاں نہ ہوا

اسے بہشت میں منظر دکھاتا دوزخ کا

مگر یہ دیکھنے والا کوئی جواں نہ ہوا

عجیب حبس کا عالم ہے آج چاروں طرف

ستم پہ لب نہ ہلے، ظلم پر فغاں نہ ہوا

ذراسے درد سے کاغذ سُلگ اُٹھا انظر

وہ غم عظیم ہے جو آج تک بیاں نہ ہوا


عتیق انظر

No comments:

Post a Comment