بدلے ہوئے زمانے کے اطوار دیکھ کر
ہر آدمی ملول ہے اخبار📰 دیکھ کر
ملبہ دُکھوں کا کب سے اٹھائے ہوئے تھے ہم
بے اختیار رو دئیے غم خوار دیکھ کر
قُربان کر دئیے سبھی دل کے معاملات
بیٹی نے اپنے باپ کی دستار دیکھ کر
دل ہو گیا اُداس بہت اس کے شہر میں
اُجڑے پڑے ہوئے در و دیوار دیکھ کر
چہرے چھپے ہوئے ہیں جراٸم کی آڑ میں
آنکھیں بھی شرمسار ہیں سنسار دیکھ کر
کب ڈگمگائے اپنے قدم نادیہ سحر
ہاری نہیں ہوں حوصلہ کُہسار دیکھ کر
نادیہ سحر
No comments:
Post a Comment