چشمِ حیراں کو یوں ہی محوِ نظر چھوڑ گئے
دل میں لہرائے خیالوں میں شرر چھوڑ گئے
جن کے سائے میں کبھی بیٹھ کے سستایا تھا
وہ گھنے پیڑ🌳🌲 مِری راہگزر چھوڑ گئے
منتظر ان کے لیے ہے کسی گرداب کی آنکھ
خود سفینوں کو جو ہنگامِ خطر چھوڑ گئے
قافلے نُور کے اُترے نہ کسی منزل پر
شب کے نمدیدہ کناروں پہ سحر چھوڑ گئے
لے گئے لوگ جبینوں میں عبادت کا غرور
کتنے سجدوں کو مگر خاک بسر چھوڑ گئے
رات کے عکس جو شبنم میں اُترنے آئے
کتنے پھولوں میں صمد داغ جگر چھوڑ گئے
صمد انصاری
No comments:
Post a Comment