Saturday, 7 August 2021

حیات اپنی سنواروں کھلی کتاب کروں

 حیات اپنی سنواروں کھلی کتاب کروں

ارادہ یہ ہے تجھے صاحب نصاب کروں

تمام عمر اسی آرزو میں گزری ہے

تِرے مزاج کو پرکھوں کوئی خطاب کروں

رہوں زمیں پر عزائم ہیں آسمانوں کے

میں چاہتی ہوں چراغوں کو ماہتاب کروں

تُو اپنے آپ کو آئینہ سا بنا پہلے

وگرنہ کیسے بھلا خود کو بے حجاب کروں

الگ یہ بات کہ زریاب ہوں سوالوں میں

اگر میں ضد پہ اتر جاؤں لا جواب کروں


ہاجرہ نور زریاب

No comments:

Post a Comment