حیات اپنی سنواروں کھلی کتاب کروں
ارادہ یہ ہے تجھے صاحب نصاب کروں
تمام عمر اسی آرزو میں گزری ہے
تِرے مزاج کو پرکھوں کوئی خطاب کروں
رہوں زمیں پر عزائم ہیں آسمانوں کے
میں چاہتی ہوں چراغوں کو ماہتاب کروں
تُو اپنے آپ کو آئینہ سا بنا پہلے
وگرنہ کیسے بھلا خود کو بے حجاب کروں
الگ یہ بات کہ زریاب ہوں سوالوں میں
اگر میں ضد پہ اتر جاؤں لا جواب کروں
ہاجرہ نور زریاب
No comments:
Post a Comment