نہ یہ شام اتنی اُداس ہے
کہ میں زندگی کو اُجاڑ دوں
نہ یہ زخم اِتنے عمیق ہیں
کہ میں اپنی شکل بگاڑ دوں
یہ تو اب کھُلا مِرے شعر میں
تِرے نین نقش جو ثَبت تھے
وہ مِرے جنون کا بھولپن
وہ مِرے دماغ کا خَبط تھے
نہ میں قیس تھا نہ پُنل کوئی
تو شکنتلا تھی نہ ہیر ہے
یہ تِرے بدن کا گلاب پَن
بھی تو اِک نظر کا فقیر ہے
نہ نشاطِ وصل و سپردگی
نہ ملالِ ہجر و فراق ہے
نہ قبائے عقل و خِرد رہی
نہ لباسِ عشق کا چاک ہے
سو یہ وقت وقت کی بات ہے
یہی تجربوں کا نچوڑ ہے
کہ جو وقت ہے یہ طبیب ہے
یہ ہر ایک درد کا توڑ ہے
ذاکر رحمان
No comments:
Post a Comment