کتابوں سے کنارہ کر رہی ہوں
میں خود کو پہلے جیسا کر رہی ہوں
غم ایسا ہے کہ پینے سے ٹلے گا
میں چائے پر گزارا کر رہی ہوں
ہوا کھڑکی سے داخل ہو رہی ہے
دِیوں کو ایستادہ کر رہی ہوں
محبت چھوڑ کر خوش بھی بہت ہوں
سہیلی کو بھی رُسوا کر رہی ہوں
ندی جس سر میں بہتی جارہی ہے
میں کشتی کو بھی ویسا کر رہی ہوں
پری نقصان زیادہ جھیلتی ہے
سو میں خود کو پرندہ کر رہی ہوں
وہ جن دونوں سے یارانہ تھا میرا
اب ان دونوں سے پردہ کر رہی ہوں
کسی کی یاد آنے لگ رہی ہے
کسی کو پھر سے زندہ کر رہی ہوں
بنا بجلی کے ٹی وی چل رہا ہے
ادھورا خواب پورا کر رہی ہوں
ستارے گِن چکی ہوں اور اب میں
ستاروں پر ہی غصہ کر رہی ہوں
مِری منزل نہیں ہے وہ عروبہ
سو انگوٹھی کو رستہ کر رہی ہوں
عروبہ نقوی
No comments:
Post a Comment