Friday, 7 January 2022

کتابوں سے کنارہ کر رہی ہوں

 کتابوں سے کنارہ کر رہی ہوں

میں خود کو پہلے جیسا کر رہی ہوں

غم ایسا ہے کہ پینے سے ٹلے گا

میں چائے پر گزارا کر رہی ہوں

ہوا کھڑکی سے داخل ہو رہی ہے

دِیوں کو ایستادہ کر رہی ہوں

محبت چھوڑ کر خوش بھی بہت ہوں

سہیلی کو بھی رُسوا کر رہی ہوں

ندی جس سر میں بہتی جارہی ہے

میں کشتی کو بھی ویسا کر رہی ہوں

پری نقصان زیادہ جھیلتی ہے

سو میں خود کو پرندہ کر رہی ہوں

وہ جن دونوں سے یارانہ تھا میرا

اب ان دونوں سے پردہ کر رہی ہوں

کسی کی یاد آنے لگ رہی ہے

کسی کو پھر سے زندہ کر رہی ہوں

بنا بجلی کے ٹی وی چل رہا ہے

ادھورا خواب پورا کر رہی ہوں

ستارے گِن چکی ہوں اور اب میں

ستاروں پر ہی غصہ کر رہی ہوں

مِری منزل نہیں ہے وہ عروبہ

سو انگوٹھی کو رستہ کر رہی ہوں


عروبہ نقوی

No comments:

Post a Comment