Friday, 17 December 2021

میاں وہ جان کترانے لگی ہے

 میاں وہ جان کترانے لگی ہے

تمنا مجھ کو سمجھانے لگی ہے

شرافت اس قدر رسوا ہوئی ہے

عمل پر اپنے شرمانے لگی ہے

جوانی کی میاں دہلیز پر ہے

غزل اب میری اترانے لگی ہے

خدارا چھوڑ دیجے شوخ حسرت

جو بو کافور کی آنے لگی ہے

سدھارا ہے اسے دو چار دس نے

تمہاری یہ غزل پانے لگی ہے

تِرا دیدار ہو حسرت بہت ہے

چلو کہ نیند بھی آنے لگی ہے

خریدی جا رہی ہے سبزیوں سی

غزل بازار میں آنے لگی ہے


ساجد پریمی

No comments:

Post a Comment