یہ جو ہم صورتِ اشجار میں اُگ آتے ہیں
تم سمجھتے ہو کہ بے کار میں اگ آتے ہیں
ہم نہیں دیکھتے زرخیز زمینوں کی طرف
ہم وہ پودے ہیں جو دیوار میں اگ آتے ہیں
جتنی رفتار سے تم کاٹتے جاتے ہو ہمیں
پھر سے ہم اتنی ہی مقدار میں اگ آتے ہیں
سب کو سرداری بزرگی سے نہیں ملتی ہے
ایسے سر بھی ہیں جو دستار میں اگ آتے ہیں
احسان گھمن
No comments:
Post a Comment