Thursday, 20 May 2021

زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

 زندگی غم کی آنچ سہہ کوئی

یوں جلی یوں بجھی کہ دھول ہوئی

ہم نے بھی جشن گل کو دیکھا تھا

آج تک سوچتے ہیں بھول ہوئی

کیا کریں اپنی اس طبیعت کو

آپ سے مل کے بھی ملول ہوئی

حسن شیریں رہا شکار ہوس

جہد فرہاد بے حصول ہوئی

ہم ہیں وہ کشتگان شوق جنہیں

صحبت دار بھی قبول ہوئی

لے سنبھل ظلمتوں کے رکھوالے

اپنا اب روشنی اصول ہوئی

کس کو ہنستا ملا چمن میں ریاض

غنچگی کس کی کھل کے پھول ہوئی


احمد ریاض

No comments:

Post a Comment